حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے ممتاز جعفری مفتی حجت الاسلام شیخ احمد قبلان نے نئے سال کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں لبنانی حکومت اور ریاستی ڈھانچے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جو ’’کلینیکل موت، سماجی غصے اور ہمہ گیر سیاسی و معاشی بحران‘‘ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک مسلسل زوال کی راہ پر گامزن ہے، جبکہ سیاسی، حکومتی اور فکری بحرانوں نے ریاست کی تاریخی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شیخ قبلان کے مطابق لبنان آج ایک ایسے نظام میں زندہ ہے جہاں حکومت بے اختیار، ریاستی مشینری ناکارہ اور وزارتی ٹیم ناتواں ہو چکی ہے، جس کا سب سے بڑا خمیازہ عام لبنانی شہری اور خاندان بھگت رہے ہیں، اور قومی و سیاسی اعتماد تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اصل خطرہ آئینی خلا نہیں بلکہ جان بوجھ کر پیدا کیا گیا سیاسی خلا ہے، جو بیرونی ایجنڈوں کے تحت قومی اداروں کو مفلوج کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان اصلاحات، شفاف احتساب، آزاد عدلیہ اور مؤثر نگرانی کے نظام کے بغیر نہیں بچ سکتا، جبکہ ملک بدترین سیاسی و مالی بدعنوانی میں ڈوبا ہوا ہے اور مالی دیوالیہ پن کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔
شیخ قبلان نے واضح کیا کہ قومی حاکمیت، مضبوط ریاست، فوج اور مزاحمت کے بغیر لبنان کا کوئی کا کوئی مستقبل نہیں، اور وہ ہتھیار (حزب اللہ ) جس نے لبنان کو آزاد کرایا، اسے ختم کرنا خیانت کے مترادف ہے۔ انہوں نے 2025 کو حکومتی سطح پر ایک تباہ کن سال قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ 2026 ایک فیصلہ کن سال ہوگا، اور اگر قومی خودمختار حکومت تشکیل نہ پائی تو لبنان کا وجود ختم ہو جائے گا۔









آپ کا تبصرہ